Your Favorite Daily Geeks

سوشل میڈیا انسانی معاشرے کے لیے خطرناک ہے:سائنس دانوں کا انتباہ

365

ویب ڈیسک —
امریکہ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا سے عالمی سطح پر انسانوں کے مجموعی طرز عمل پر دور رس اور ناقابل تلافی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کے بارے میں اب تک مکمل علم بھی موجود نہیں۔

’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز آف دی یونائٹڈ سٹیٹس آف امریکہ‘‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں سترہ محققین نے حصہ لیا جن میں فلسفے سے لے کر موسم سے متعلق سائنس دان شامل ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے آج اربوں افراد ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اس سے انسانی سماج کے رویے کیسے تبدیل ہو رہے ہیں، اس کے انسانی بقا اور ماحول پر کیا اثرات ہیں، اس سے سائنس دان بہت حد تک لاعلم ہیں۔

سائینس دانوں نے زور دیا ہے کہ سوشل میڈیا انسانی معاشرے کی بقا کے لیے خطرناک ہے اور اس بارے میں فوری طور پر تحقیقی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

محققین نے لکھا کہ یہ صورت حال ویسے ہی مسائل اپنے ساتھ لائی ہے جیسے ماحول اور حیاتیات کے ماہرین کو اُس وقت دیکھنے کو ملے تھےجب قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی میں منافع کمانے کی دھن میں مگن انڈسٹریوں کی وجہ سے ماحول اور زمین کے نظام کے استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔

محققین کے بقول ایسی صورت میں ماحولیات اور ارضیات کے ماہرین کو ماحول کو لاحق خطرات کو سمجھنے کے لیے خطرے کی گھنٹی بجانی پڑی تاکہ حقائق تک فوری طور پر پہنچا جا سکے اور ان کی روشنی میں ایسے ضوابط ترتیب دیے جا سکیں جن سے ماحول اور زمین کے نظام کو غیر مسحکم ہونےسے بچایا جا سکے۔

اس تحقیق میں نشان دہی کی گئی ہے کہ اس وقت انسانی معاشرے کو بھی ویسے ہی خطرات کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا کے موجودہ زمانے میں مجموعی انسانی رویے کیسے تبدیل ہو رہے ہیں، ان پر تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں آنے والی تباہی کو روکنے کے لیے کیا ضابطے لائے جائیں، ان کے بارے میں کسی کو علم نہیں۔

تحقیق میں شامل وبائی امراض کے ماہر کارل برگسٹروم نے امریکی ویب سائٹ ووکس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی دیگر ٹیکنالوجیز کی بدولت الوگریتھم کے تحت چلنے والے اشتہارات اور معلومات لوگوں تک پہنچنے اور کوئی رائے قائم کرنے کا طریقہ تبدیل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب تبدیلیاں اس طرز سے رونما ہوئی ہیں کہ لوگ غلط معلومات کے سامنے پہلے سے زیادہ خطرے میں ہیں۔

انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک کمزور تحقیق کے ساتھ ایک ریسرچ پیپر سامنے آتا ہے جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہائیڈروکلوروکوئین شاید کرونا وائرس کا علاج ہو۔ چند دنوں میں اس تحقیق کو کئی رہنماوں نے عوام میں پھیلایا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دوا بازار سے غائب ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج غلط معلومات کے پھیلنے کی رفتار اس سے پہلے موجود ذرائع معلومات کے مقابلے میں کہیں تیز رفتار ہے۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف واشنگٹن میں ریسرچر کے طور پر کام کرنے والے ایک اور محقق جوزف بیک کولمین نے ووکس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسان کے مجموعی رویے بہت پیچیدہ نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔ ان کے بقول اگر ان نظاموں کو خراب کیا جائے تو انہیں کسی بھی وارننگ کے بغیر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس مقالے میں ان مسائل کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے تجاویز پیش کی گئی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی طرز پر مجموعی انسانی رویوں پر سائنس کے تمام شعبوں میں فوری طور پر تحقیق شروع ہونی چاہئے۔ ان ریسرچز کو استعمال کر کے ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جن کی مدد سے سوشل نیٹ ورکس کے استعمال اور معلومات کی فراہمی سے متعلق ضابطے مقرر ہونے چاہئے۔

You might also like