Your Favorite Daily Geeks

میں استادوں کا غلام ہوں

242

سکول کی زندگی بھی کیا زمانہ ہوتی ہے۔ اور سکول کے دوست ہی سب سے اچھے دوست ہوتے ہیں۔ میرے لیے سب سے بڑی خطرناک چیز بائیو اور کیمسٹری کا ہوم ورک ہوتا تھا اور میں اب بھی خواب میں ڈر جاتا ہوں۔ جب کبھی سکول کے زمانے کا خواب آتا ہے۔ بہرحال سکول کے اساتذہ نے جو بنیادیں رکھیں وہ آج بلند وبالا مینار بن گئی ہیں۔ آج میں آپ کو اپنے سکول کے زمانے کے چند اہم واقعات بیان کرتا ہوں۔

ہماری انگریزی کی بنیاد جس استاد محترم نے رکھی ان کا اسم گرامی سید افتخار حسین شاہ تھا۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کی دعائیں اور یادیں ہمیشہ میرے ساتھ ہیں۔ پھر ہمارے سکول میں ایک نئے استاد بھرتی ہو کر آئے اور انہوں نے تو سونے پر سہاگے کا کام کیا اور ماشااللہ کیا انداز معلمی تھا۔ ان کا اسم گرامی جناب مقبول حسین ہے میری ان سے بہت اچھی بنی کیونکہ میرے دادا اور والد محترم بھی ریلوے ملازم تھے جبکہ مقبول حسین صاحب کے والد بھی ریلوے میں تھے۔ میرے دادا ہر جمعہ کو مقبول صاحب سے گپ شپ کرنے سکول آجاتے تھے۔ ہمارا سکول چونکہ پنجم کلاس تک تھا اور چھٹی جماعت کے لیے ہائی سکول لال سوہانرا میں داخلہ لینا تھا۔ جناب مقبول حسین صاحب نے جو ہماری بنیاد رکھی وہ قابل ستائش ہے اوران کے لیے ہر وقت میرے دل سے دعا نکلتی ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار میں پیپر غلط نتھی کر لیا تھا تو مجھے زور دارتھپڑ پڑا تھا۔ اور پھر استاد صاحب نے ساری کلاس کو پیپر نتھی کرنے کا طریقہ سمجھایا۔ پانچویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد ہم ہائی سکول میں چلے گئے۔ وہاں محترم اللہ وسایا صاحب، محترم عامر مسعود صاحب، محترم غلام یاسین صاحب، محترم سید ظہور حسین شاہ صاحب سے علمی فیض حاصل کیا۔ شاہ صاحب کا پڑھانے کو کیا خوب انداز تھا۔ ایک بار شاہ صاحب ہیں اردو غزل پڑھا رہے تھے تو ہمارے کلاس فیلو الطاف حسین نے غزل کا مطلب پوچھا تو استاد صاحب نے کیا خوب وضاحت فرمائی

کہ جب شکاری کسی ہرن کا شکار کرتا ہے اور تیر لگنے سے ہرن کے منہ سے جو درد ناک آواز نکلتی ہے اسے غزل کہتے ہیں۔

ساری کلاس محظوظ ہوئی۔ اس کے علاوہ محترم مہر عبدالکریم صاحب، محترم نصیر احمد چوہدری، محترم جعفر حسین صاحب اور ہمارے نویں اوردسویں کلاس کے انچارج محترم طالب حسین صاحب قابل ذکر ہیں جن کے علمی فیض کی بدولت میں آج اس مقام پر پہنچا۔  جناب طالب حسین صاحب ایک بہت نیک اور رحمدل انسان تھے اور طلبا کی اسلامی تعلیم و تربیت میں کوئی کثر اٹھا نہ چھوڑتے تھے۔ اپنے اساتذہ کے لیے میرے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ میرے بہترین دوستوں میں ساجد حسین، اظہر تسلیم، الطاف حسین، احمد بخش، شاہد نواز، اور فیصل نذیر قابل ذکر ہیں۔ آج بھی میں جب لال سوہانرا جاتا ہوں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے وہاں کے اساتذہ اور دوستوں سے ضرور ملوں۔

سکول کی زندگی کی یادیں انمٹ یادیں ہوتی ہیں اور انہی یادوں کے سہارے زندگی گزر رہی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ میرے محترم اساتذہ کرام اور دوستوں کو اپن حفظ و امان میں رکھے۔آمین

You might also like