Your Favorite Daily Geeks

ڈاکٹر عبدالقدیرخان: اسلامی بم کے خالق

502

قومی جوہری پروگرام کے سب سے بڑے معمار، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 85برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔ان کی وفات پرخلوص رہنمائوں کی کمی کی شکار پاکستانی قوم کے لئے ایک سانحہ ہے۔ڈاکٹر صاحب کئی ماہ سے علیل تھے اور سماجی ویب سائٹس پر ان کے پرستار بیماری کے دوران ہسپتال کیبستر پر دراز ڈاکٹر صاحب کی تصاویر نشر کرتے رہے ہیں۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی‘وزیر اعظم عمران خان‘اپوزیشن رہنمائوں اور عسکری قیادت نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی وفات پر تعزیتی پیغامات جاری کئے ہیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سب سے بڑا خراج عقیدت پاکستان کے عوام پیش کر رہے ہیں جنہیں یہ احساس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے پاکستان اور اہل پاکستان کے تحفظ کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں ان کے بدلے میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مناسب سلوک نہیں کیا گیا۔

1972 ء میں ڈاکٹر صاحب نے ‘فزیکل ڈائینامکس ریسرچ لیبارٹری’ میں یورینکو(URENCO) کی ڈچ شراکت دار ذیلی ٹھیکیدار کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔ برطانیہ، جرمنی اور ہالینڈ کی کمپنیوں کے اشتراک سے یورینکو(URENCO) وجود میں آئی تھی جسے 1971 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ ‘سینٹری فیوجز’ (مختلف اجزا کو الگ کرنے کے عمل) کے ذریعے یورینیم کی افزودگی کی تیاری اور تحقیق ممکن ہو۔یہ ‘سینٹری فیوجز’ انتہائی تیز رفتار سے کام کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو ‘سینٹری فیوج ٹیکنالوجی’ کی مکمل معلومات تک رسائی حاصل ہو گئی۔انھوں نے ‘ایل میلو’ (مشرقی ہالینڈ کا شہر) میں قائم ڈچ پلانٹ کا متعدد مرتبہ دورہ کیا۔ ان کی ایک ذمہ داری جدید ترین سینٹری فیوجز سے متعلق جرمن دستاویزات کا ڈچ زبان میں ترجمہ کرنا بھی شامل تھا۔

17 ستمبر 1974 کو ڈاکٹرصاحب نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا جس میں انھوں نے ایٹم بم بنانے کے لیے اپنی خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کیں۔ اس خط میں ان کی رائے تھی کہ سینٹری فیوجز کو استعمال کر کے جوہری بم بنانے کا راستہ پلوٹونیم (جس سے پاکستان پہلے ہی بم بنانے کی کوشش کر رہا تھا) کے ذریعے بم بنانے سے بہتر ہے کیونکہ اس میں ‘جوہری ری ایکٹرز’ اور ‘ری پراسیسنگ’ ہوتی ہے۔ایٹمی ہتھیاروں تک جانے والا راستہ ڈاکٹر صاحب کی ہمت سے طے ہوا۔نائن الیون کے بعد امریکہ کی ترجیحات تبدیل ہوئیں۔دیگر ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے الزام میں ڈاکٹر عبدالقدیر 31 جنوری 2004 کو گرفتار کر لئے گئے۔ چار فروری کو پاکستان ٹیلی ویژن پر انھوں نے ایک بیان پڑھا جس میں انھوں نے ان کارروائیوں کی تمام ذمہ داری قبول کر لی تھی ۔یہ وہ دعویٰ تھا جو بہت سارے جوہری ماہرین تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔

اگلے دن صدر پرویز مشرف نے انھیں معافی دے دی لیکن 2009 تک انھیں ان کے گھر میں نظربند رکھا گیا۔پاکستانی قوم کے لئے یہ بات صدمے کا باعث تھی ۔بہت سارے پاکستانیوں کے لیے ڈاکٹر صاحب قومی عزت و وقار کی علامت تھے۔ انھیں ہیرو تصور کیا جاتا تھا جنھوں نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی قومی سلامتی کو مضبوط اور ناقابل تسخیر بنایا تھا۔پاکستان میں اگر جوہری پروگرام کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا نام جڑا ہوا ہے تو مغربی ممالک میں ان کا نام ’جوہری پھیلاؤ‘ سے منسلک ہے۔اسے مغرب کی امتیازی سوچ کہا جا سکتا ہے۔ابتدا میں ڈاکٹر صاحب نے پاکستان اٹامک انرجی کمشن (پی اے ای سی) کے ساتھ کام کیا لیکن ادارے کے سربراہ منیر احمد خان سے ان کے اختلافات ہو گئے۔1976 کے وسط میں ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت پر ڈاکٹر خان نے ‘انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری’ (ای آر ایل) قائم کی تاکہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو پروان چڑھایا جائے۔ مئی 1981 میں اس لیبارٹری کا نام ‘خان ریسرچ لیبارٹری’ یا ‘کے آر ایل’ رکھ دیا گیا جس کا مرکز کہوٹہ میں تھا۔ڈاکٹر خان نے جرمن نمونے کے مطابق سینٹری فیوج کا ابتدائی نمونہ تیار کیا اور ضروری اجزا کی درآمد کے لیے پرزے فراہم کرنے والوں کی فہرست استعمال کی۔

پرزے فراہم کرنے والوں میں دیگر کے علاوہ سوئس، ڈچ، برطانوی اور جرمن کمپنیاں شامل تھیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی زندگی اور صلاحیتیں پاکستان کے لئے وقف کر دیں۔وقتی اقتدار کی خاطر ایسی شخصیت کو متنازع بنانا اور پھر ان سے معافی کا مطالبہ مصلحت کوش پرویز مشرف کا جرم ہے۔ڈاکٹر صاحب سراپا محبت اور شائستگی تھے‘شعر و ادب سے لگائو بچپن میں تھا۔ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا زیادہ وقت علمی و ادبی دوستوں کے ساتھ گزرا۔اپنے پسندیدہ اشعار کا انتخاب انہوں نے عریضہ کے نام سے شائع کیا۔ پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام بھارت کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے شروع کیا۔بھارت نے جب اپنے ایٹمی سائنسدان کو ملک کا صدر بنایا تو پاکستانی قوم توقع رکھتی تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو بھی اسی طرح کے منصب پر فائز کیا جاتا لیکن بحرانی لمحات میں کمزور فیصلے کرنے والی قیادت نے یہ موقع ضائع کر دیا۔بلا شبہ ڈاکٹر صاحب کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ انجام دے کر ریاست پاکستان نے مرحوم کی خدمات کا احترام کیا ہے تاہم یہ مطالبہ قطعی غیر مناسب نہ تھا کہ حکومت تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیتی۔اہل پاکستان اپنے محسن کی وفات پر صدمے سے دوچار ہیں اور اللہ کے حضور دعا گو ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین

Rate this post
You might also like