Your Favorite Daily Geeks

صبرِ ایوب ؑ ہم سب کے لیے مشعلِ راہ

202

 حضرت ایّوبؑ کو اللہ تعالیٰ نے بہت مال و دولت، زمین و جائیداد، مویشی، غلام اور اولاد عطا فرمائی تھی۔ آپکے سات بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں۔ پھر جب آپؑ کو آزمائش میں مبتلا کیا، تو یہ سب چیزیں واپس لے لیں اور آپکی اولاد بھی انتقال کرگئی۔ (آزمائش ختم ہونے پر اتنی ہی اولاد دوبارہ عطاہوئی) آپؑ کو طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہو گئیں اور کوئی عضو صحیح سالم باقی نہ رہا، سوائے دِل اور زبان کے۔ ان تمام مصیبتوں، مشکلات اور بیماریوں کے باوجود، آپؑ نہایت صابر و شاکر رہتے اور دن و رات اُس کا ذکر کرتے رہتے۔ آپؑ کے پورے جسم پر بڑے بڑے پھوڑے ہو گئے، جن میں کیڑے پڑ گئے تھے۔ کوئی ساتھ نہ بیٹھتا تھا۔ دوست احباب بھی وحشت کرتے تھے ، حتیٰ کہ آپؑ کو شہر سے باہر ایک کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر ڈال دیا گیا۔ لوگوں کا آپؑ سے ملنا جلنا بند ہو گیا اور کوئی بھی غم خوار نہ رہا، سوائے بیوی کے، جو اُن کا بے حد خیال رکھتیں اور اُن کی خدمت میں لگی رہتیں۔

حضرت شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ایّوبؑ کا گوشت تک جسم سے جَھڑ چُکا تھا، صرف ہڈّیاں اور پٹّھے باقی رہ گئے تھے۔ بیوی باریک ریت لے کر آتیں اور اُن کے نیچے بچھاتیں تاکہ جسم کو تکلیف نہ ہو۔ پھر جب بیوی کو خدمت کرتے طویل زمانہ گزر گیا، تو ایک مرتبہ حضرت ایّوبؑ سے کہا؛ ’’اگر آپؑ اپنے پروردگار سے دُعا کریں، تو وہ آپؑ کو ان مصائب سے رہائی عطا فرمائے گا۔‘‘ اس پر آپؑ نے حیرت انگیز جواب دیا کہ’’مَیں ستّر سال تک صحیح سالم رہا، تو کم از کم اللہ کے لئے ستّر سال تو صبر کر لوں۔‘‘ یہ سُن کر بیوی خاموش ہو گئیں مگر خدمت جاری رکھی۔ حضرت مجاہدؒ سے مروی ہے کہ حضرت ایّوبؑ پہلے انسان ہیں، جنھیں چیچک اور دیگر جِلدی بیماریاں ہوئیں۔

ابنِ جریر اور ابنِ ابی حاتمؒ نے فرمایا کہ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا؛ ’’لوگوں میں شدید ترین آزمائشیں انبیاء علیہم السّلام پر آئی ہیں۔‘‘ اور فرمایا کہ’’آدمی آزمائش میں اپنے دین کے باقدر مبتلا ہوتا ہے، لہٰذا اگر وہ اپنے دین میں مضبوط ہو گا، تو اُس کی آزمائش بھی زیادہ ہو گی۔‘‘ (قصص الانبیاء۔ ابنِ کثیر)

ابن ابی حاتمؒ فرماتے ہیں کہ عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ حضرت ایّوبؑ کے دو بھائی تھے۔ ایک دن آپؑ سے ملنے آئے، تو بُو کی وجہ سے قریب نہ آ سکے اور دُور کھڑے ہو گئے۔ پھر ایک دُوسرے سے کہا کہ’’اگر اللہ تعالیٰ، ایّوبؑ میں کوئی بھلائی یا خیر جانتا، تو اسے اس طرح تکلیف میں مبتلا نہ کرتا۔‘‘ اس بات سے حضرت ایّوبؑ اس قدر غم زدہ ہوئے کہ کبھی کسی بات سے اتنی تکلیف نہ ہوئی ہو گی۔ آپؑ نے فوراً بارگاہِ ربّ العزّت میں دُعا کے لئے ہاتھ بلند کئے۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ’’جب اُنہوں نے اپنے پروردگار سے دُعا کی کہ’’مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تُو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے‘‘، تو ہم نے اُن کی دُعا قبول کر لی اور اُنہیں جو تکلیف تھی، وہ دُور کر دی اور اُن کو بال بچّے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی سے اُن کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے۔‘‘
(سورۃ الانبیاء ٨٣ تا ٨۴)

قرآن کریم میں ایک اور جگہ ارشاد ہے’’ اور ہمارے بندے ایّوبؑ کو یاد کرو، جب اُنہوں نے اپنے ربّ کو پکارا کہ’’ (اے اللہ) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے۔‘‘ (ہم نے کہا کہ زمین پر) پاؤں مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں)‘‘۔
(سورۂ ص، ۴١ تا ۴٢)

حضرت ایوبؑ کی دُعا بارگاہِ الٰہی میں قبول کر لی گئی۔ اُنہوں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا، جہاں سے ٹھنڈے اور شیریں پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ پھر آپؑ نے اپنے کمزور اور لاغر جسم کو گویا اُس چشمے کے پانی پر ڈال دیا. جیسے جیسے جسم پر پانی پڑتا، جسم میں توانائی آتی جاتی۔ آپؑ دیر تک نہاتے رہے، یہاں تک کہ مکمل طور پر صحت مند ہو گئے۔ اُس وقت اُن کی اہلیہ وہاں موجود نہیں تھیں۔ ابنِ ابی حاتم نے فرمایا کہ حضرت ابنِ عبّاسؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایّوبؑ کو جنّت کا جوڑا پہنا دیا تھا۔ پھر وہ ہَٹ کر ایک طرف بیٹھ گئے، تو اُن کی بیوی تشریف لائیں اور اُنہیں پہچان نہ سکیں۔ اُنھوں نے آپؑ ہی سے پوچھا ’’اے اللہ کے بندے ! یہاں ایک آفت زدہ شخص ہوتا تھا، وہ کہاں گیا؟ شاید کہ اُسے کتّے لے گئے ہیں یا بھیڑیے؟‘‘ اور ایک گھڑی یوں ہی بات کی، پھر حضرت ایوبؑ نے فرمایا؛ مَیں ہی ایّوبؑ ہوں۔‘‘ اُنہوں نے عرض کیا ’’اے اللہ کے بندے! آپ مجھ سے مذاق کرتے ہیں؟‘‘ حضرت ایّوبؑ نے کہا؛ ’’مَیں ہی ایّوبؑ ہوں، اللہ نے مجھے میرا جسم لَوٹا دیا ہے۔‘‘
(قصص الانبیاء۔ ابنِ کثیر)

اِن اللہ مع الصابرِین۔

آزمائش و امتحان اور مصائب و آلام پر صبر و شُکر میں، حضرت ایّوبؑ ضرب المثل ہیں۔ اللہ ربّ العزّت نے آپؑ کو صبر و شُکر کا وہ مقام عطا فرمایا کہ رہتی دُنیا تک لوگوں کے لئے ’’صبرِ ایوبؑ‘‘ مشعلِ راہ بن گیا۔

You might also like